18

نظریاتی لوگ۔۔۔اصل بات

کالم:اقبال جنجوعہ.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سقراط کو جب زہر پلایا گیا تو اس سے پہلے اس سے کہا گیا کہ تم یہ لکھنا چھوڑ دو تمہاری جان بخشی ہو سکتی یے، تم مر جاو گے پھر کس نے تمہاری بات سننی ہے، مگر اس نے انکار کر دیا۔اور اپنے نظریات پر ڈیٹا رہا بولا میں مر بھی گیا تو جس جس تک میری بات پہنچے گی وہ سوچے گا ضرور اسے زہر دے دیا گیا مگر وہ زہر اسے امر کر گیا۔نیلسن منڈیلا سیاہ فام کے حقوق کی بات کرتا اپنے افکار سوچ پر لڑتا رہا کم و پیش27 سال جیل کاٹی اپنے نظریات کا سودہ نہیں کیا تاریخ میں لیڈر بن گیا۔ذولفقار علی بھٹو سے کون واقف نہیں جب ان کو سزاے موت کی کوٹھری میں بند کر دیا گیا تو صدر ضیاالحق نے ان کے پاس درجنوں وفد سیاسی غیر سیاسی وزیر مشیر، ڈی سی بیھجے کے ایک پیپر پر دستخط کر لو بات مان جاو تو سزا معاف ہو سکتی ہے مگر انہوں نے انکار کر دیا، پھر سعودی عرب، ایران اور تمام دوست ممالک نے پیغام بھیجا کہ تم ہاں کرو ہم تمیں باہر نکالتے ہیں، مگر بھٹو نے انکار کر دیا اپنے نظریات پر اپنے منشور پر سمجھوتہ نہیں کیا پھانسی چڑھ گئے اور تاریخ لکھوا گئے، حبیب جالب، جان ایلیا، ساغر صدیقی، تمام انقلابی شعرا، ادیب مر گئے مٹ گئے اپنے نظریات کا سودہ نہیں کیا سزائیں کاٹی جیلیں کاٹی، کوڑے کھائے، مگر بکے نہیں جھکے نہیں اج ان ہی کو پڑھا جاتا ہے سنا جاتا ہے۔ سیاست کا میدان ہو یا ادب کا فن کا میدان ہو یا کھیل کا سماجی شخصیت ہو یا صحافتی جس نے اپنے افکار سے، اپنے نظریات سے اپنی جدوجہد سے سودہ نہیں کیا،بیچا نہیں، وقت نے تاریخ نے اس کو اپنی گود میں بیٹھا کر زندہ رکھا، قوم پرست حق پرست سیاسی نظریاتی، اپنے افکار کا سودہ نہ کرنے والے رہنما، لیڈروں نے سولی چڑھا قبول کیا مگر بکے نہیں، مقبول بٹ انڈیا جاتا تو اسے پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا، پاکستان اتا تو انڈیا کا ایجنٹ سمجھا جاتا اس پار جاتا تو قید ہوتا، اس پار اتا تو قید ہوتا مگر اپنے نظریات پر قائم رہا ایک وقت ایسا بھی ایا تھا جب مقبول بٹ کو ازاد کشمیر کی وزارت بھی افر ہوئی مگر انکار کر دیا۔انڈیا اور پاکستان دونوں اس کو غدار کہتے مگر اپنے مفاد کی خاطر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور کشمیر کی تاریخ میں امر ہو گیا عمران خان نے اپنے نظریات کا سودہ نہیں کیا اپنی جدوجہد پر ڈٹا رہا اج سب کے سامنے ہے۔محمد ابراہیم، خالد ابراہیم صاحب اج کے دور کے سیاست دان تھے مگر اپنے موقف پر اپنے نظریات پر تنےتنہا لڑتے رہے، ساری زندگی اصولوں کی سیاست کی زندگی میں ناکام ہوئے ہونگے مگر تاریخ اج ان کو ان کے اصولوں سے یاد رکھتی ہے۔
مگر افسوس کے اج کے دور میں وہ سیاست دان جو اپنے اپ کو عوامی لیڈر کہتے ہیں اپنے اپ کو نظریاتی سیاستدان کہتے ہیں، کوئی کسی کے نعرے لگاتا ہے کوئی کسی کے، مگر ان کے نظریات، خیالات، افکار، صرف پانچ سال تک ہوتے ہیں ہر نئے الیکشن میں ان سیاست دانوں کے نظریات بدل جاتے ییں اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ بدل دیتے ہیں پانچ سال جس سیاسی جماعت کو گالیاں دیتے ییں ان کو کنجر، یہودی، ایجنٹ، اوارہ کیا کیا کہتے ییں مگر جیسے ہی الیکشن نذدیک اتے ہیں یہ اسی سیاسی جماعت کی گود میں بیٹھ کر پھر سے ایک اور نظریئے کے گیت گانا شروع کر دیتے ہیں اور ہم عوام کہیں برادری کے نام پر، کہیں علاقے کے نام پر، کہیں ،اپنی انا اور ضد کی خاطر، کہیں بغض معاویہ اور کہیں خب علی کے نام پر ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں ان کے نعرے لگاتے ان کو لیڈر قائد اور رہنما سمجھنے لگتے ہیں۔مگر یہ سیاست دان اپنے اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ بھول جاتے ہیں، پھر یہی سوچ یہی نظریہ سیاسی ورکر اور کارکن میں منتقل ہوتا ہے، اج کے باشعور سیاسی کارکن ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ہم نے ساری ذندگی بھٹو کے نعرے لگائے اب کس منہ سے عمران کے لگائیں، مسلم کانفرنس، مسلم لیک ن کے سیاسی کارکنوں اور ورکرز کا بھی یہی سوال ہے کہ کل ہمارا نظریہ کوئی اور تھا اج کچھ اور، کل ہم کسی اور کی تعریف کر رہے تھے اج کسی اور کی یہ کیا سیاست ہوئی یہ کیا نظریہ ہوا، یہ کیا سوچ و افکار ہوے جو ہر بار الیکشن میں بدل جاتے ہیں، اج کا سیاسی و سماجی شعور رکھنے والا کارکن کسی سیاست دان سے نہیں، کسی دوسرے سے نہیں بلکہ اپنے اپ سے پوچھتا ہے کیا سیاسی کارکن پیدا ہونا بند ہو گئے ۔کیا سیاست کا نام سرمایا داری ہے کیا سیاست مفاد کا نام راہ گیا ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمارا مستقبل کیا ہوگا، پھر ہم کس کے لئے دشمنیاں اور نفرتیں پالتے ہیں، لیڈر کبھی مفاد کی جنگ نہیں لڑتا لیڈر اپنے نظریات کی بقا اپنی نسل کے مستقبل کی خاطر لڑتا ہے۔لیڈر اپنے افکار کی حفاظت کرتا ہے۔چلے اگر یہ مان لیں کے سیاست میں سب جائز ہے، سیاست بے رحم کھیل ہے، سیاست مفادات کا نام ہے تو ان سیاست دانوں کو صاف صاف یہ کہنا چاہئے کہ ہمارا کوئی نظریہ کوئی منشور نہیں اخر میں جو پارٹی جیتنے والی ہوگی ادھر چلے جائیں گے اس سے ان کی سچائی تو سامنے اے گی، کم از کم نظریاتی لوگ جنہوں نے اپنی نسلیں برباد کر دی مگر اپنے موقف سے ہٹے نہیں ان کی روح کو تو تکلیف نہیں ہوگی، جس ملک کا، جس جماعت کا، جس پارٹی کا لیڈر، راہنما، قائد مفاد پرست ہو گا اس کا کارکن کیسے وفادار ہو سکتا ہے، یہ سیاست دان ہزاروں لوگوں کے آئیڈیل ہوتے ہیں، بہت سے لوگ ان کو فالو کر رہے ہوتے ہیں۔جس طرح کی سیاست پاکستان کشمیر میں چل رہی ہے اس سے تو نسل برباد ہو سکتی ہے سدھر نہیں سکتی، اس لئے یہ شکوہ کرنا کہ ہم بطور قوم تباہی کی طرف جا رہے ہیں تو اس کے زمہدار کوئی اور نہیں بلکہ یہ سیاستدان ہیں جو اس معاشرے کے نوجوانوں کو مفاد کا، نفرت کا دشمنی کا تعصب کا سبق دے کر برباد کرتے ہیں، معاشرے کی تربیت لیڈر کرتا ہے اگر لیڈر نا پید ہو تو پھر سیاست دان معاشرے کی تربیت کرتا ہے، اس لئے جب تک ہمارے قائد اچھے نہیں ہم اچھے نہیں ہو سکتے۔ہم ایک نہیں ہوسکتے ہم ایک ایک قوم معاشرہ نہیں بن سکتے۔ہم ترقی نہیں کر سکتے، پھر تباہی بربادی دشمنی، نفرت ہمارا مقدر ہوگی۔ہمارا راستہ سوچ، فکر نظریا ٹھیک ہے سوچیئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں