12

اس کو کیا بولا جائے۔۔۔۔۔
اقبال جنجوعہ

(اصل بات)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بولا ،پہلے میں یہ سوچتا تھا کہ یہ جو پانچ سال بعد الیکشن سے پہلے ڈرامہ ہوتا ہے یہ سچ ہے،عوام پارٹیاں بدلتے ہیں ان کے ساتھ واقعی نا انصافی ہوتی ہے،ان کو اگنور کیا جاتا ہے،ان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی پارٹیاں بدلنے والے لوگ حق پر ہیں، مگر جیسے جیسے مجھے سمجھ آتی گئی،جیسے جیسے میں سیاست کو سمجھتا گیا تو میری سمجھ میں آیا،کہ یہ سب ایک سکرپٹ ہے ایک ڈرامہ ہے اس میں کوئی سچائی نہیں،جن کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے وہ نہ بدلتے ہیں ،نہ بولتے ہیں۔میں مسلسل تین الیکشن سے یہ بات نوٹ کر رہا ہوں کہ ہر نئے الیکشن میں لوگ ایسے ایسے بہانے بنا کر اپنے پرانے امیدوار کو چھوڑتے ہیں کہ عقل دھنک راہ جاتی ہے،ان بہانوں کا نہ سر ہو تا ہے نہ پیر،مجھے ایک سیاسی کارکن ملا جس کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں جب اس سے میری دعا سلام ہوئی تھی تو وہ پیپلزپارٹی کا سرگرم جیالہ تھا وہ ہمیشہ نظریات کی بات کرتا بھٹو زندہ ہے کی بات کرتا ،اس کے سامنے کوئی پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرتا تو وہ بھڑک اٹھتا،اس کہ خیالات ،باتوں سے پارٹی کی وفاداری ،ہمدردی اور پتہ نہیں کیا کیا جھلکتا تھا ،اس کی اتنی چلتی تھی کہ جس کی چاہے ٹرانسفر کروا دے،جس کو چاہے اسکیم دلائے، یہ بغیر الیکشن لڑے منسٹر تھا، پانچ سال گزرے تو نئے الیکشن کی تیاریاں شروع ہوئیں نئے الیکشن میں مسلم لیک ن ڈنکا بجنے لگا، عام و خاص کو یہ نظر آنے لگا کہ مسلم لیک ن آنے والی حکومت بنائے گی،میں نے دیکھا کہ وہ پیپلز پارٹی کا سر گرم جیالہ غصہ سے لال پیلا ہوا پریس کانفرنس کر رہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی چھوڑ رہا ہوں مجھے ایسی جماعت نہیں چاہیے جس کا لیڈر ہمیں وقت نہ دے سکے،جو ہمارے کام نہ کر سکے،ہمیں ان کی شکل دیکھنے کو نہ ملے،ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے دو بھائی ایک بہن کو اس دور میں سرکاری نوکری ملی آپ کو اسکیمیں بھی ملی آپ نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا پھر کیسے کہہ رہے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہوا،جیالہ بولا یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے مجھے نوکریاں نہیں چاہیے تھیں اس سال میری بکری مر گئی سارے لوگ آئے افسوس کرنے مگر جس کو ہم نے ووٹ دیئے وہ میری بکری کے مرنے کا افسوس کرنے نہیں آیا میں نے اس پارٹی میں نہیں رہنا میں نے اب مسلم لیک ن میں شمولیت اختیار کرنی ہے ۔اس الیکشن میں جتنے سیاسی کارکنوں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر مسلم لیک ن میں شمولیت اختیار کی وہ ایسے سیاسی کارکن تھے جنہوں نے ٹھیکے لئے،تقرریاں کروائیں،اسکیمیں لیں، بجلی کے ٹرانسفارمر لئے،اپنا نام نہاد اسٹیٹس انجوائے کیا، سب سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا تھا،پارٹی چھوڑنے کا معقول بہانہ کسی کے پاس نہیں تھا بس سب یہ کہہ کر جماعت چھوڑ رہے تھے کہ میرا کام تو ہوا مگر میں ملنے گیا تو وہ ملے نہیں،کوئی بولے کہ مجھے سڑک ملی،میرے چار بچوں کو نوکریاں ملی مگر میرے چھوٹے بچے کو نہیں ملی اس لئے یہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں،کوئی بولے مجھے پانی کا پائپ نہیں ملا،مجھے سلام نہیں کیا،فلاں میٹنگ میں مجھے منسٹر صاحب نے لفٹ نہیں کروائی،ایسی ایسی باتیں کر کے متحرک لوگوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیک ن میں شمولیت اختیار کی، الیکشن ہوئے مسلم لیک ن جیت گئی حکومت بن گئی ،اب وہ لوگ جنہوں نے پہلی حکومت میں اپنے تمام رشتے دار میرٹ کی دھجیاں اڑا کر نوکری پر لگوائے تھے ،لاکھوں کی اسکیمیں ہڑپ کی وہ اب نئے انداز سے تازہ دم ہو کر مسلم لیک ن میں اپنی اپنی لائن میں کھڑے ہو گئے ،میں نے دیکھا پورے پانچ سال مسلم لیک ن میں اسیکمیں لی،پانی کہ پائپ لئے ٹینکیاں بنوائیں،ایک دو کلو میٹر سڑکیں بنوائیں، ٹھیکے لئے، تقرریاں کروائیں،اپنے اپنے محلے میں رستے بنوائے، اپنے اپنے بندوں کو نوکریں دیلوائیں ،ٹرانسفر کروائیں،اپنی بیوی بچوں اور رشتے داروں کو ایپائنٹ کروایا،وہ بولا کہ میں سوچ رہا تھا کہ اس بار لوگ پارٹی چھوڑنے کا کیا بہانا بنائیں گے،اب جب الیکشن نزدیک ائے تو میں ایک بار یہ سن کر حیران ہو گیا کہ لوگوں نے پھر بھی ایسے ایسے بہانے بنا رکھے ہیں ،ایک صاحب اب ن لیک چھوڑنے کہ چکر میں ہیں میں نے وجہ پوچھی تو کہتے ہیں میں اپنی ایک فائل لیکر منسٹر صاحب کے گھر گیا وہ گھر میں ہی تھے مگر مجھے ملے نہیں فون پر کہتے ہیں فائل چھوڑ جاو میں کام کروا دونگا میں اس وقت گھر نہیں ہوں،مگر وہ گھر تھے ملے نہیں ،میں نے کام کا پوچھا تو بولا کام تو دو دن میں ہی میرا ہو گیا تھا مگر کام کی بات نہیں بس وہ ملے نہیں،ایک صاحب بولے میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں میں نے پوچھا کیوں کہنے لگا میں نے منسٹر صاحب کو ایک میسج کیا تھا انہوں نے مجھے جواب نہیں دیا ،میں نے کہا کچھ کام بھی ہوا بولا رستے بھی بن گئے سڑک بھی لے لی اسکیمیں بھی ملی مگر کیا فائدہ میری اتنی عزت نہیں کہ میسج کا جواب دیتا۔ اب ن لیک چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے لئے پر تولنے والے عجیب عجیب بہانے بنا رہے ہیں،پانچ سال پہلے جو یہ کہتا تھا کہ ہم سب ایک ہیں برادریوں کے نام پر ہم اب تقسیم نہیں ہوسکتے ان کو اب ایک بار پھر برادری یاد آگئی،کچھ تو یہاں تک بہانا بناتے ہیں کہ منسٹر صاحب میری شادی میں نہیں آئے،فلاں کہ مرنے میں نہیں آئے،گاڑی میں جاتے ہوئے گاڑی روک کر مجھے سلام نہیں کیا اس لئے ہم اب ان کے ساتھ نہیں چل سکتے،واہ رے سوچ ،واہ رے بہانے، اس کو کیا بولا جائے ،مفاد پرستی،منافقت،سیاست،دھوکا،چلاکی،کم علمی،شعور کی کمی،یا پھر ایسے کو تیسا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں