30

سرکاری روٹی….خضر رفیق


ہماری ریاست میں انتخابات کی الجھن پھرآن
پڑی ہے،سمجھ میں کچھ نہیں آتاکہ مہنگائی اورانارکی کی اس فضاء میں عام آدمی کےلیے
چناومیں رکھاکیاہے؟فضاء میں پھیلی ہوئی سوگواریت نوشتہ دیوار ہے،انسان کی انسان سےبیزاری دیکھ کرسیاست کاکھیل بےمعنی ہوکررہ جاتاہے،سیاست اورسنیاس میں ایک
قدرمشترک ہےکہ سانپ۔آستین اورپٹاری
دونوں میں رکھنےپڑتےہیں ورنہ تماشہ لگتانہیں،ڈیپریشن یعنی کہ ذہنی کھچاواور دباونےشہرکاشہرگھیرلیاہے،طرفہ تماشہ یہ کہ۔ذہنی دباوکی گرفت سےکس طرح نکلناہے ؟ریاست اور شہری دونوں کو کچھ نہیں معلوم،ذہنی دباوکاعارضہ اگرچہ عالمی و بین الااقوامی مسلہ ہے۔ہمارےہاں المیہ تشویشناک
اس لیےہےکہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ بیماری ہے کیا؟اورہم اس کےمریض بھی ہیں؟
ڈیپریشن میں مبتلاکوئی شخص پگ لیڈری
ناک اور برادری کاہمدردبن کے بات کرتا ہےتو
پتھراٹھاکہ اپناسرپھوڑنےکودل کرتاہے،
ذہنی دباوکروناسےبڑی وباءہےمگرکریں کیا؟دل
کوبھلانےکہ تمام ذرائع پابند سلاسل ہیں،جلاد
کی عدالت نےہرخوشی کےخلاف سٹےآرڈر جاری کردیاہے،آٹادال چاول سونے کابھاوہوگئے
فنون لطیفہ حرام قرارپاچکے،سورج کی کرن
چاند کی چاندنی حرام ،غزل حرام رباعی حرام چڑیوں کی چچہاہٹ حرام،ہمارے ہاں حلال ہےتوفقط دوسرےکاراستہ روکنا۔۔جب سب ایک دوسرےکاراستہ روک کہ کھڑے ہو
جائیں خوشیاں اورتتلیاں کیسےسانس لے
پائیں؟تتلیوں کاقتل ڈیپریشن کاباعث بنتا ہے
بہرکیف ریاست میں حکومت کہ پانچ سال مکمل ہواچاہتےہیں،مطالبات خواب دعووں اور
حسرتوں کاملبہ زمیں پےبکھراپڑاہے ایک جگہ
راکھ کاڈھیرنظرآرہااوردھواں سااٹھ رہاتھا
میں نےراکھ ہٹائی غورسےدیکھاتو عزت نفس
آگ میں جل کر راکھ ہورہی تھی،قریب ہی تو
تو،میں میں کی صدابلندہوئی اورخامشی چھا گئی،تھوڑی دیربعدپھرشوراٹھامیں نےپوچھا
کیاماجراہے؟درویش نےجھک کرمیرےکان میں
کہاآئیندہ پانچ سال سرکاری روٹیاں کون کھاےگا؟اورکون نہیں؟ اس پےپانی پت کا
گھمسان پڑاہواہے،سیاست سےمقصدیت نکال
دیں تویہ فقط دھندہ بن جاتی ہے،میں نےایک
سرکاری اورسیاسی دوست سےپوچھادھندا
کیسےچل رہاہے؟کہنےلگایاراس سرکاری روٹی
میں ایساذائقہ ہےکہ کھرب پتی بھی ٹکٹوں کی لائین میں پوراپورادن کھڑےرہتےہیں،میں
نےپوچھااس مرتبہ کیاارادہ ہےآپ کا؟تھوتھنی
پھیلاکےبولا،گنداہےپردھنداہے-کرناتوپڑےگا،
کسی معاشرہ یاریاست کو اس دھندےکا عارضہ لاحق ہوجاےتومائیک ایسی زبانوں کو
میسرجنہیں بولناآتاہےنہ تولنا،دستاران کی
ملکیت جن کاسرہی نہیں،بادی النظرمیں اس کیفیت کوقحط الرجال کہتے ہیں،جس آبادی میں نامردی کایہ عالم ہوجاےکہ ایک لوہر
مڈل کلاس پانچ سال میں ارب پتی بن جاے
اورلوگ کہیں ماشااللہ یہ بندہ بہت مظبوط ہوگیاہےاس کیفیت میں بددیانتی فرض منصبی بن جاتی ہےاور عجب تماشہ ہوتاہےکہ اہل محلہ کہ دیکھتےدیکھتےخواجہ سراء محلہ لوٹ لیتےہیں،سرکاری روٹی کاتندورپانچ
سال کیلیے کسی کاہوا کھیل ختم پیسہ ہضم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں