47

غازی آباد دھندلا منظر۔۔۔۔۔۔۔زید علی

باہر دھند ہے، بارش بھی ہے اور ٹھنڈ بھی۔ البتہ گاڑی کے اندر کا موسم بہتر ہے۔ وہ خوش گپیوں میں مشغول دھیرکوٹ کی طرف رواں دواں ہیں کہ غازی آباد سے ذرا اوپر ایک پتھریلے موڑ کے پاس سے گزرتے اسے دھڑام کی ایک زوردار آواز آتی ہے۔۔
اس آواز کے بعد کا منظر دھندلا ہوتے ہوتے شدید تاریک ہو چکا ہے۔۔ اسے محسوس ہوتا ہیکہ کوئی بھاری بھرکم شے اسکے سر سے پاؤں تک اترتی جا رہی ہے۔ گاڑی کے آہنی دروازے اور بالائی کنارے تیز دھار نیزوں کی مانند اس کے جسم کو چھیل رہے ہیں۔ بائیں بازو پہ نوکدار پتھر تہہ در تہہ جڑے ہیں اور دائیں طرف گیلی ماٹی کا ڈھیر۔

یہ ایک لمحہ ہے، فقط ایک بد قسمت لمحہ جس میں وہ درد، خوف، کرب و الم کی ایک پوری صدی جی چکا ہے۔
کچھ ہے جو اس کے دریدہ بدن کے اندروں بے چین ہے۔ وہ اس کے ٹوٹے ہوئے مساموں میں مزید بسیرا نہیں کرنا چاہ رہی مگر اس کی بے بس اداس آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھل کے اسے التجا کر رہی ہیں کہ ہائے۔۔۔۔ مت جا۔۔ ذرا دیکھ تو سہی میرے پھٹے ہوئے سینے کو، اس میں میری بیٹی کی منبسط آنکھیں دھڑک رہی ہیں۔
وہ رات بجلی کی گھن گرج سے سہم کے مجھ سے لپٹ گئی تھی اور آج بھی مجھی کو دیکھ کر جیے گی۔
دیکھ۔۔ مت جا یار۔۔ میرے پورے بدن میں سلاخیں پیوست ہیں ورنہ میں تجھے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیتا۔
مگر وہ تو روح ہے۔۔۔ بے وفاؤں کی ملکہ۔ اس نے کہاں کسی کی سننی ہے۔
یہ اگلا۔لمحہ ہے۔۔۔ پتھر اور لوہے کے راڈ اسے تڑپنے بھی نہیں دے رہے اور ادھر وہ بے وفا اس کے ٹوٹے مساموں سے اپنی باقیات کو کرید کرید کر اکٹھا کر رہی ہے۔۔
بائیں آنکھ تو مٹی سے بھری کب کی بند ہے ۔ دائیں آنکھ ہے جو اس سارے درد کا خراج اکیلے بھگتنے کی ٹھان کر ذرا سی جھپکی ہے۔
بس اگلے لمحے، یہ آنکھ چھلکی اور ادھر وہ منہ بسورتی ہوئی پرواز کر چکی ہے۔۔۔

اسے محسوس ہو رہا ہیکہ وہ اب وہاں نہیں ہے جہاں پہلے تھا۔۔
وہ اب جائے حادثہ سے ذرا اوپر ہواؤں میں معلق ہے اور نیچے سینکڑوں من وزنی اس قوی ہیکل پتھر کو دیکھ رہا ہے جس کے نیچے گاڑی دبی ہے اور اندر تین دوست
۔
لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اداس، مغموم اور بے بس چہرے، تذبذب میں فون کانوں سے لگائے دائیں بائیں بھاگ رہے ہیں۔۔
وہ بے خود سا کیا وہیں ہوا میں اٹکا، ٹکٹکی باندھ کے یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی اور کچھ جو پہلے۔ سے وہاں موجود ہیں پتھر کو توڑنے کی سبیلیں تلاش رہے ہیں۔
اتنے میں ایک بلبلا سا اڑتا ہوا اوپر فضاؤں کی طرف بلند ہو رہا ہے۔ وہ قریب پہنچتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسی کا دوست ہے جو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا چٹکلے بکھیر رہا تھا۔
اووووہ۔۔۔ سو آپ بھی؟ ۔ مجھے لگا میں اکیلا ہی سیاہ بخت جسم کے نرم ریشوں سے نکال باہر کیا گیا ہوں۔
اتنے میں لوگوں نے کچھ ذرا پتھر سرکایا تو اک سلامت سر وہاں سے نمودار ہوا۔۔ یہ ان کا دوست جو گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا معجزاتی طور پہ زندہ تھا اور صحیح سلامت تھا۔ اسے یہ دیکھ کے رونا آ گیا۔ وہ فضاؤں میں معلق دونوں بجلی کی طرح کوند کر اس تک پہنچتے ہیں۔
وہ بے ساختہ اس سے لپٹنا چاہتے ہیں پر وہ ہاتھ میں نہیں آ رہا۔ وہ اسے گلے لگا رہے ہیں پر اسے محسوس ہی نہیں ہو رہا۔
وہ دونوں اسے اپنی حالت زار بتانا چاہ رہے ہیں پر وہ سن نہیں پا رہا۔ وہ تڑپ کہ کہہ رہا ہے” دیکھ یار آج تو ہم نے چمیاٹی کے روڈ سائد ریسٹورنٹ جانا تھا۔ وہاں تم پہ پڑی کئی دنوں کی ادھار ٹریٹ اڑانی تھی۔ یار ایک لمحے میں بس۔۔؟۔ اس سے آگے اس کا گلہ روندہ گیا۔
وہ دونوں اس کے چہرے کو چھو کے، ماتھا چوم کے پھر سے اس منظر سے ذرا اوپر فضا میں معلق ہو گئے۔

ابھی آدھا گھنٹہ بھی پورا نہیں گزرا تھا کہ اسے اپنے بچوں اور گھر والوں کی یاد نے آ لیا۔ اس نے اپنے جیسے دوسرے ہم سفر سے کہا کہ یار۔۔۔ “ہمارے بچے۔” یہ کہنا ہی تھا وہ دونوں اپنے گاؤں کی طرف اڑان بھر لی اور چند لمحوں میں وہ اپنے گاؤں اتر چکے ہیں۔۔۔ دونوں چونکہ ایک ہی گاؤں سے ہیں سو وہ پہلے پہل اپنے گھر گئے ۔۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔۔
چھوٹا کاکا پنگھوڑے میں سو رہا ہے۔۔ بیگم کچن میں مصروف اور اماں کھانستی ہوئی صحن سے ذرا نیچے جانوروں کے باڑے کی طرف جانے کا سوچ رہی ہے۔
وہ ماں کے گلے لگنا چاہ رہا ہے پر ماں کو وہ دکھائی دیتا ہے نہ ہی محسوس ہو رہا ہے۔
بیگم کو آواز دے رہا ہے پر شنوائی ندارد۔ وہیں سے وہ گاؤں کے سکول کی طرف مڑتا ہے جہاں اس کے تینوں بڑے بچے پڑھ رہے ہیں۔ وہاں بھی سب کچھ نارمل ہے۔۔ اس کا بیٹا کتاب سامنے رکھ کر پنسل سے کھیل رہا ہے جبکہ بیٹی پڑھائی میں مستغرق ہے۔۔ کچھ ہی لمحوں میں اس کا دوسرا دوست بھی اپنے بچوں کے دیکھنے وہیں سکول آن پہنچا ہے۔ وہ سکول کے وسط میں کھڑے اپنے بچوں کی حرکتوں کو دیکھ رہے ہیں اور دل ہی دل میں اس خیال میں ہیں کہ کاش انہیں ہمارے چلے جانے کی کبھی خبر ہی نہ ہو۔۔ کاش کسی مسجد سے کوئی اعلان نہ ہو، میری بیٹی کا تو دم گھٹ جائے گا۔۔ کاش کچھ ایسا ہو کہ یہ سب یوں ہی ہنستے مسکراتے رہیں اداس نہ ہوں۔

اب انہیں یقین ہو چلا ہیکہ وہ اپنی مادی حیثیت سے مابعد الطبیعیاتی حیثیت میں منتقل ہو چکے ہیں۔۔
وہ چند ثانیے وہاں رکتے ہیں اور پھر کچھ ہی لمحوں میں وہ اسی بدقسمت مقام پہ ہیں جہاں ان سے ان کی پہچان، ان کا جسم چھن چکا ہے۔
وہاں پہنچتے ہیں تو ایک اور حیرت زدہ بلبلا ہواؤں میں تیرتا وہاں موجود ہے۔ وہ کڑیل نوجوان جو ان تینوں میں سب سے کم عمر ہے کچھ دیر روح کی بے وفائیوں۔ سے لڑنے کے بعد تھک ہار کے اب انہیں کا ہو رہا ہے۔

سرکاری ڈوزر پوری قوت سے پتھر ہٹانے میں لگا ہے اور ادھر اس کے مادی بدن میں وہ پتھر اور لوہے کی سلاخیں پیوست ہو کر آر پار گزر چکی ہیں۔
وہ پھر نیچے اترتا ہے۔۔ اپنے کٹتے ہوئے بدن کے ہاس پہنچتا ہے۔
اس کا ہاتھ کٹ کر سڑک کنارے نالی میں پڑا ہے جس میں اسکی چمکدار انگوٹھی بالکل ویسے ہی جَڑی ہوئی ہے جو اسے ایک سینئر افسر نے گفٹ کی تھی۔
سر اس کے دھڑ سے الگ ہو کے پیچھے ڈگی کے پاس پڑا ہے اور باقی جسم بھی کٹ کٹ کے آس پاس بکھرا ہوا ہے۔۔
نعشیں نکالی جاچکی ہیں۔۔ سڑک صاف کی جا رہی ہے۔۔ ایمبولینسوں کے سٹریچرز پر انکے مادی اجسام لٹا دیے گئے ہیں جبکہ اسے ایک توڑے میں اکٹھا کر کے سیٹ پہ رکھ دیا گیا ہے ۔
جہاں سفید ایمبولینسیں انکے پیکر خاکی کو لیے ہاسپٹل روانہ ہوئی ہیں وہیں آفاقی ایمبولینسیں اب ان کے روحانی پیکروں کو لینے سفید کپڑوں میں ملبوس وہاں پہنچ چکی ہیں۔۔۔
وہ سفید ریش، ملک الموت کے کارندے انہیں مسکرا کے سلام کر رہے ہیں اور شہادت کا مرتبہ پانے کا مژدہ سنا رہے۔

وہ صبیح پوش ان سے خوشگوار موڈ میں گپ شپ کر رہے ہیں جبکہ وہ تینوں ما بعد الموت کے مناظر میں غلطاں و پیچان ہونقوں کی طرح انہیں دیکھ رہے ہیں۔۔
اب وہ تینوں ان سفید پوشوں کی معیت میں ملک عدم کی طرف رخت سفر باندھ چکے ہیں۔
دنوں اور مہینوں کے فاصلے اب لمحوں میں طے ہو رہے ہیں۔
یک بہ یک اسے ایک خیال آن گھیرتا ہے۔ وہ فرشتوں سے کچھ دیر دوبارہ نیچے جانے کی درخواست کرتا ہے۔۔ وہ بتاتا ہیکہ اس گاڑی کے پچھلے ٹائر کے اندرونی حصے میں میرے کٹے پھٹے جگر کا ایک ٹکڑا چسپاں ہے۔۔ وہ میری بیٹی کے نام ہے۔۔ میں اسے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔۔
فرشتے مسکرا کہ اسے سمجھانے لگتے ہیں۔۔ ابھی وہ کچھ مزید کہنے ہی والے ہوتے ہیں کہ وہ نیچے زمیں کی سمت فضاؤں میں غوطہ زن ہو چکا ہوتا ہے۔۔
وہ سبھی اس کے تعاقب میں پھر سے جائے حادثہ پہنچ جاتے ہیں۔
وہ چند ثانیے میں سڑک کنارے پڑی گاڑی کے پاس پہنچتا ہے۔۔ اس ٹائر کے اندرونی حصہ میں وہ ٹکڑا ہنوز چپکا ہو ہے۔۔ وہ اسے لینے کی کوشش کرتا ہے پر اچک نہیں پاتا۔۔
ایک صبیح پوش نوری اس کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے سہارا دیتا ہے اور گویا ہوتا ہے۔۔
میرے مہمان۔۔۔ یہ جو تمہیں محسوس ہو رہا ہیکہ تم ہو، یہ تم نہیں ہو۔۔ تمہارا وجود تمہارا جہاں مافوق العادہ ہے جہاں سے تم صرف مادہ کو دیکھ سکتے ہو چھو نہیں سکتے۔۔
اس نے سرد آہ بھری اور فرشتے سے اک آخری سوال کیا۔۔
“انسان کا اتنا بڑا پیچیدہ وجود کیا فقط ایک لمحے کی مار ہے؟”
وہ مسکرا کے گویا ہوا، بات اس ایک لمحے کی نہیں، بات اس لمحے میں موجزن ایک عمیق لفظ کی ہے جسے ” کُن” کہتے ہیں۔۔ اور محض انسان ہی نہیں، بلکہ تم سے کہیں زیادہ پیچیدہ کل کائنات اس “کن” کی مار ہے۔۔
وہ کچھ دیر اپنے اس جسم کے ٹکڑے کو یاسیت زدہ نگاہوں سے دیکھتا رہا اور پھر، وہ دوبارہ مبتسم چہروں والے فرشتوں کے ساتھ نکلنے کو اوپر اٹھ گئے۔۔

دور نیچے ایمبولینس ہاؤں ہاؤں کرتی اس کے مادی جسم کو لیے اس کے گاؤں جا رہی ہے اور وہ دور فضاؤں میں مسلسل بلند ہوتا ہوا اسے دیکھ رہا ہے.

(زید علی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں